العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُسَدَّدٌ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ بُرَيْدَةُ خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ أَمْشِي فِي حَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَمْشِي فَظَنَنْتُهُ يُرِيدُ حَاجَةً فَجَعَلْتُ أَكُفُّ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى رَآنِي فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ بَيْنَ أَيْدِينَا يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «تُرَى هَذَا يُرَائِي؟» فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَأَرْسَلَ يَدَهُ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيُصَوِّبُهُمَا وَيَقُولُ «عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبُهُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Buraidah (may Allah be well pleased with him) narrated: I went out one day walking for some need, and behold, I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) walking. I thought he wanted something, so I kept holding back from him. I continued doing that until he saw me and beckoned to me. I came to him and he took my hand, and we walked together. Then we saw a man ahead of us praying, performing much bowing and prostrating. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Do you think he is showing off?' I said: 'Allah and His Messenger know best.' He then released my hand, placed his palms together three times, raising and lowering his hands, and said: 'Adopt a moderate course! Adopt a moderate course! For whoever contends with this religion, it will overpower him.'
الترجمة الأردية
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن کسی کام سے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو چلتے ہوئے دیکھا۔ میں نے سمجھا کہ آپ کوئی کام چاہتے ہیں تو میں آپ سے دور رہنے لگا۔ میں ایسا کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے مجھے دیکھا اور مجھے اشارہ کیا، میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ساتھ چلنے لگے۔ تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے آگے ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے، بہت زیادہ رکوع اور سجود کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'تمہارے خیال میں یہ ریاکاری کر رہا ہے؟' میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ چھوڑا اور تین بار دونوں ہاتھ ملائے، انہیں اوپر اٹھاتے اور نیچے لاتے ہوئے ارشاد فرمایا: 'اعتدال کا راستہ اختیار کرو! اعتدال کا راستہ اختیار کرو! کیونکہ جو اس دین سے زور آزمائی کرے گا، دین اسے مغلوب کر دے گا۔'
