العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا ابْنُ وَهْبٍ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ فَسَأَلَا عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ مَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَحْسَنُ وَأَطْهَرُ وَسَأُخْبِرُكُمَا لَمَّا بَدَأَ الْغُسْلُ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُحْتَاجِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ الْمَسْجِدُ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ شَدِيدِ الْحَرِّ وَمِنْبَرُهُ قَصِيرٌ إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَبْدَانُهُمْ رِيحَ الْعَرَقِ وَالصُّوفِ حَتَّى كَادَ يُؤْذِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَنَّ أَحَدُكُمْ أَطْيَبَ مَا يَجِدُ مِنْ طِيبِهِ أَوْ دُهْنِهِ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: Two men from the people of Iraq came to him and asked about the bath (ghusl) on Friday - is it obligatory? Ibn Abbas said to them: Whoever takes a bath, it is better and more purifying. And I shall inform you how the practice of bathing began: People during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) were in need; they wore wool and watered date palms on their backs. The mosque was small with a low ceiling. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out on a Friday on a hot summer day, and his pulpit was short with only three steps. He delivered the sermon, and the people sweated in their woolen garments until the smell of sweat and wool arose from their bodies, and they began to bother one another, until the odor reached the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the pulpit. So he stated: 'O people, when this day comes, take a bath, and let each of you apply the best fragrance or oil he can find.'
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عراق کے دو آدمی ان کے پاس آئے اور جمعہ کے غسل کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ واجب ہے؟ ابن عباس نے ان سے فرمایا: جو غسل کر لے وہ بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کی ابتدا کیسے ہوئی: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ تنگدست تھے، اون پہنتے تھے اور اپنی پیٹھ پر کھجوروں کو پانی دیتے تھے۔ مسجد تنگ تھی اور چھت نیچی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک جمعہ کو شدید گرمی کے دن نکلے اور آپ کا منبر چھوٹا تھا صرف تین سیڑھیاں تھیں۔ آپ نے خطبہ دیا تو لوگ اون میں پسینے سے تر ہو گئے اور ان کے بدنوں سے پسینے اور اون کی بو اٹھی یہاں تک کہ ایک دوسرے کو تکلیف دینے لگے، یہاں تک کہ بو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک منبر پر پہنچی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: 'اے لوگو! جب یہ دن آئے تو غسل کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنی بہترین خوشبو یا تیل لگائے جو اسے میسر ہو۔'
