العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَصْنَعُونَ فِي الْحَائِضِ نَحْوًا مِنْ صَنِيعِ الْمَجُوسِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ" # وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222 #، فَلَمْ يَزْدَدْ الْأَمْرُ فِيهِنَّ إِلَّا شِدَّةً "
الترجمة الإنجليزية
Ikrimah said: "The people of the pre-Islamic era (Jahiliyyah) used to treat menstruating women similar to what the Zoroastrians did. This was mentioned to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and the verse was revealed: 'They ask you about menstruation. Say: It is harm, so keep away from women during menstruation and do not approach them until they are pure' (Al-Baqarah 2:222). But matters regarding them only became more strict."
الترجمة الأردية
عکرمہ نے فرمایا: "زمانۂ جاہلیت کے لوگ حائضہ عورتوں کے ساتھ مجوس جیسا سلوک کرتے تھے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی: 'وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ فرما دیجیے: وہ ناپاکی ہے، تو حیض میں عورتوں سے دور رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہو جائیں' (البقرہ ۲:۲۲۲)۔ لیکن ان کے بارے میں معاملہ اور بھی سخت ہو گیا۔"
