العربية (الأصل)
قَالَ : وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :" لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ "، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ : عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنْ أُكْتِبَهُ شَيْئًا، قَالَ : فَلَمْ أَفْعَلْ، قَالَ : فَجَعَلَ سِتْرًا بَيْنَ مَجْلِسِهِ وَبَيْنَ بَقِيَّةِ دَارِهِ، قَالَ : فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ، وَيَتَحَدَّثُونَ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ، فَأَقْبَلَ مَرْوَانُ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، قَالَ : قُلْتُ وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ : مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاكَ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ : " إِنَّا أَمَرْنَا رَجُلًا يَقْعُدُ خَلْفَ هَذَا السِّتْرِ، فَيَكْتُبُ مَا تُفْتِي هَؤُلَاءِ وَمَا تَقُولُ "
الترجمة الإنجليزية
Ibn Sirin stated: "No, by Allah, I have never written a single hadith." Ibn Awn also narrated from Ibn Sirin, from Hadrat Zayd ibn Thabit (may Allah be well pleased with him) that Marwan ibn al-Hakam, who was the governor of Madinah, wanted him to dictate something. He refused. So Marwan placed a curtain between his gathering and the rest of his house. His companions would come and converse in that area. Then Marwan turned to his companions and said: "I think we have betrayed him." Then he turned to Zayd and said: "I think we have betrayed you." He said: "How so?" Marwan said: "We ordered a man to sit behind this curtain and write down your fatwas and what you say."
الترجمة الأردية
ابن سیرین نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ ابن عون نے ابن سیرین سے، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ مروان بن حکم جو مدینے کا والی تھا، نے ان سے کچھ لکھوانا چاہا۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ تو مروان نے اپنی مجلس اور باقی گھر کے درمیان پردہ لگا دیا۔ اس کے ساتھی آتے اور اس جگہ بات چیت کرتے۔ پھر مروان نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا: لگتا ہے ہم نے ان سے خیانت کی۔ پھر زید کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: لگتا ہے ہم نے آپ سے خیانت کی۔ میں نے کہا: وہ کیسے؟ کہا: ہم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ اس پردے کے پیچھے بیٹھے اور آپ کے فتاویٰ اور باتیں لکھے۔
