العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ :" كَانُوا لَا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ، ثُمَّ سَأَلُوا بَعْدُ لِيَعْرِفُوا مَنْ كَانَ صَاحِبَ سُنَّةٍ أَخَذُوا عَنْهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبَ سُنَّةٍ، لَمْ يَأْخُذُوا عَنْهُ "، قَالَ أَبُو مُحَمَّد : مَا أَظُنُّهُ سَمِعَ��ُ مِنْ عَاصِمٍ
الترجمة الإنجليزية
Ibn Sirin stated: "They used to not ask about the chain of narration (isnad). Then later they asked about it in order to identify who was a person of the Sunnah — they would take from him — and who was not a person of the Sunnah — they would not take from him."
الترجمة الأردية
ابن سیرین نے فرمایا: لوگ پہلے اسناد کے بارے میں نہیں پوچھتے تھے۔ پھر بعد میں پوچھنے لگے تاکہ جان لیں کہ کون صاحب سنت ہے تو اس سے لیں، اور جو صاحب سنت نہ ہو اس سے نہ لیں۔
