العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ الْمَدِينَةِ ، مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ؟، قَالَ : لَا، قَالَ : وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ؟، قَالَ : لَا، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :" مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ بِهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ، لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظِّهِ، أَوْ بِحَظٍّ وَافِرٍ "
الترجمة الإنجليزية
Kathir ibn Qays said: I was sitting with Hadrat Abu al-Darda (may Allah be well pleased with him) in the mosque of Damascus when a man came to him and said: "O Abu al-Darda, I have come to you from Madinah, the city of the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), for a hadith that has reached me from the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." He asked: "Did trade bring you here?" He said: "No." He asked: "Did anything else bring you?" He said: "No." He said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stating: "Whoever treads a path seeking knowledge, Allah will make easy for him a path to Paradise. Indeed, the angels lower their wings out of pleasure for the seeker of knowledge. Indeed, everyone in the heavens and the earth seeks forgiveness for the seeker of knowledge, even the fish in the water. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the moon over all the stars. The scholars are the heirs of the Prophets. The Prophets did not leave behind dinars or dirhams; they only left behind knowledge. Whoever takes it has taken an abundant share."
الترجمة الأردية
کثیر بن قیس نے کہا: میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابوالدرداء! میں آپ کے پاس مدینہ سے آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شہر سے، ایک حدیث کے لیے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہنچی ہے۔ فرمایا: کیا تجارت لے کر آئے ہو؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: کوئی اور کام؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: جو شخص علم کی تلاش میں کوئی راستہ چلے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا۔ اور بے شک فرشتے طالب علم کے لیے خوشی سے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور طالب علم کے لیے آسمانوں اور زمین والے مغفرت طلب کرتے ہیں حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں بھی۔ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چاند کی تمام ستاروں پر فضیلت۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے دینار و درہم نہیں چھوڑے، انہوں نے صرف علم چھوڑا، پس جس نے اسے لیا اس نے وافر حصہ لیا۔
