العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ الزُّبَيْرَ جَعَلَ دُورَهُ صَدَقَةً عَلَى بَنِيهِ، لَا تُبَاعُ وَلَا تُوَرَّثُ، وَأَنَّ لِلْمَرْدُودَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَارٍّ بِهَا، فَإِنْ هِيَ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ، فَلَا حَقَّ لَهَا "
الترجمة الإنجليزية
Hisham narrated from his father (Urwah): Al-Zubair made his houses a charitable endowment for his sons — not to be sold or inherited. And any of his divorced daughters who returns may live there without causing harm or being harmed. But if she becomes self-sufficient through a husband, she has no right to it.
الترجمة الأردية
ہشام اپنے والد (عروہ) سے روایت کرتے ہیں: زبیر نے اپنے گھر اپنے بیٹوں کے لیے صدقہ (وقف) کر دیے — نہ بیچے جائیں نہ وراثت میں آئیں۔ اور ان کی بیٹیوں میں سے جو طلاق دے کر واپس آئے وہ بغیر نقصان پہنچائے اور بغیر نقصان اٹھائے رہ سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ شوہر کے ذریعے مستغنی ہو جائے تو اس کا کوئی حق نہیں۔
