العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ : " فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِئَةِ دِرْهَمٍ، وَثَلَاثَةَ بَنِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَدَّعِي مِائَةَ دِرْهَمٍ عَلَى الْمَيِّتِ، فَأَقَرَّ لَهُ أَحَدُهُمْ، قَالَ :يَدْخُلُ عَلَيْهِ بِالْحِصَّةِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ : مَا أُرَى أَنْ يَكُونَ مِيرَاثًا، حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ
الترجمة الإنجليزية
Al-Sha'bi ruled regarding a man who died and left three hundred dirhams and three sons. A man came claiming one hundred dirhams against the deceased, and one of the sons acknowledged it. He said: "He enters upon him (the acknowledging son) by his share." Then al-Sha'bi added: I think there should be no inheritance until the debt is settled.
الترجمة الأردية
شعبی نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فتویٰ دیا جو فوت ہوا اور تین سو درہم اور تین بیٹے چھوڑے۔ ایک شخص آیا اور میت پر سو درہم کا دعویٰ کیا، ایک بیٹے نے اقرار کیا۔ فرمایا: "وہ (اقرار کرنے والے) کے حصے میں اس کی حصہ داری سے داخل ہو گا۔" پھر شعبی نے فرمایا: میری رائے ہے کہ قرض ادا ہونے تک میراث نہیں ہونی چاہیے۔
