العربية (الأصل)
وَعَنْ عَبْدِ اَلرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَعَبْدِ اَللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى -رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَا: { كُنَّا نُصِيبُ اَلْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -وَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ اَلشَّامِ, فَنُسْلِفُهُمْ فِي اَلْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ - وَفِي رِوَايَةٍ: وَالزَّيْتِ 1 - إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى. قِيلَ: أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ? قَالَا: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ } رَوَاهُ اَلْبُخَارِيُّ 2 .1 - مقتضى سياق الحافظ لهذه الرواية كان يحسن أن يقول: " والزيت - وفي رواية: والزبيب ".2 - صحيح. رواه البخاري ( 4 / 434 / رقم 2254 و 2255 ). وهذا السياق بلفظ الزيت، وأما رواية: " الزبيب " فهي: ( 4 / 431 ).
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Abdur-Rahman bin Abza and 'Abdullah bin Abu Aufa (may Allah be well pleased with him) that "We were getting a portion of the spoils of war along with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and some Nabateans (Arabs who mixed with non-Arabs and corrupted their language and lineage) from those of Syria used to come to us and we would pay in advance to them for wheat, barley and raisins - A narration has: 'and olive oil' - for a specified fixed time." It was asked, "Did they have standing crop?" They replied, "We were not asking them about that." .
الترجمة الأردية
حضرت عبد الرحمن بن ابزیٰ اور حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مالِ غنیمت حاصل کرتے تھے۔ شام کے نبطی لوگ (کسان) ہمارے پاس آتے تھے، تو ہم انہیں گندم، جَو اور کشمش ـ اور ایک روایت میں: زیتون کا تیل ـ میں مقررہ مدت تک سلف دیتے تھے۔ پوچھا گیا: کیا ان کے پاس کھیتی ہوتی تھی؟ فرمایا: ہم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا۔
