العربية (الأصل)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ -رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا-; { أَنَّهُ كَانَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَعْيَا. فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ. قَالَ: فَلَحِقَنِي اَلنَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم -فَدَعَا لِي, وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْراً لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ, قَالَ: " بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ " قُلْتُ: لَا. ثُمَّ قَالَ: " بِعْنِيهِ " فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ, وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي, فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ, فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ, ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي. فَقَالَ: " أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ? خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ. فَهُوَ لَكْ } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , وَهَذَا اَلسِّيَاقُ لِمُسْلِمٍ 1 .1 - صحيح. رواه البخاري ( 2861 ) مطولا، وفي غير هذا الموطن مختصرا. ورواه مسلم ( 3 / 1221 / رقم 109 ).
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Jabir bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with him) that I was traveling on a camel of mine which had become exhausted, so I intended to let it go free. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) followed me and made supplication for me and struck it. Then, it went as it had never done before. He then said, "Sell it to me for on Uqiya." I replied, "No." He again said, "Sell it to me." So I sold it to him for one Uqiya. However I stipulated that I should be allowed to ride it home. Then when I reached (home), I took the camel to him and he paid me its price in cash. I then went back and he sent someone after me. (When I came), he said, "Do you think that I asked you to reduce the value of your camel's price to take it? Take your camel and your money, for it is yours." .
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سوار تھے جو تھک چکا تھا، تو انہوں نے چاہا کہ اسے چھوڑ دیں۔ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے آ ملے، میرے لیے دعا فرمائی اور اونٹ کو مارا تو وہ ایسا چلا جیسا پہلے کبھی نہیں چلا تھا۔ آپ نے فرمایا: اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے عرض کیا: نہیں۔ پھر فرمایا: مجھے بیچ دو۔ تو میں نے ایک اوقیہ میں بیچ دیا اور یہ شرط رکھی کہ گھر تک اس پر سواری کروں گا۔ جب میں گھر پہنچ گیا تو اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے مجھے اس کی قیمت نقد دی، پھر میں واپس لوٹا تو آپ نے میرے پیچھے کسی کو بھیجا اور فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے مول تول کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے دراہم بھی، یہ سب تمہارا ہے۔ متفق علیہ، اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
