العربية (الأصل)
وَعَنْهُ: { أَنَّ اِمْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى اَلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ, فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ, أَفَأَحُجُّ عَنْهَا? قَالَ: " نَعَمْ ", حُجِّي عَنْهَا, أَرَأَيْتِ لَوْ 1 كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ, أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ? اِقْضُوا اَللَّهَ, فَاَللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ } رَوَاهُ اَلْبُخَارِيُّ 2 .1 - كذا هو في الأصل، وفي " الصحيح " والمطبوع، والشرح. وتحرف في " أ " إلى: " إن ".2 - صحيح. رواه البخاري ( 1852 ).
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ’Abbas (RAA) narrated, ‘A woman from the tribe of Juhainah came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said, ‘My mother had vowed to perform Hajj, but she died before fulfilling her vow. Should I perform Hajj on her behalf? the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated:"Yes perform Hajj on her behalf. Had there been a debt on your mother, would you have paid it or not? So, pay off her debt to Allah, for He is most deserving of settlement of His debt." Related by Al-Bukhari.
الترجمة الأردية
اور انہی سے مروی ہے: جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی مگر حج نہ کر سکیں اور فوت ہو گئیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرو۔ بتاؤ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرو کیونکہ اللہ ادائیگی کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ (بخاری)
