العربية (الأصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهَا ؛ أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -قَالَ: { أَتَشْفَعُ فِي حَدٍ مِنْ حُدُودِ الْلَّهِ ؟ " . 1 ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا 2 النَّاسُ ! إِنَّمَا هَلَكَ 3 الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ . . . } الْحَدِيثَ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ . 4 وَلَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ : عَنْ عَائِشَةَ : كَانَتِ امْرَأَةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ ، وَتَجْحَدُهُ ، فَأَمَرَ الْنَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم -بِقَطْعِ يَدِهَا . 51 - . 1231 - وعن عائشة رضي الله عنها؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أتشفع في حد من حدود الله؟.2 - . ثم قام فاختطب، فقال: "أيها.3 - الناس! إنما هلك.4 - الذين من قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد…." الحديث. متفق عليه، واللفظ لمسلم.5 - . وله من وجه آخر: عن عائشة: كانت امرأة تستعير المتاع، وتجحده، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقطع يدها.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat 'Aishah (RAA) narrated, 'Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated (to Hadrat Usamah bin Zaid), "Are you interceding with regards to one of Allah's prescribed penalties?" Then he got up and addressed the people saying, "O People! What destroyed the nations before you, was that when a noble person committed theft, they used to leave him (without punishment), but if a weak person among then committed theft, they would inflict the legal punishment on him" Agreed upon and the wording is from Muslim. Muslim has another version on the authority of Hadrat 'Aishah (RAA) who said, 'A woman used to borrow (people's) belongings and deny having taken them, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ordered that her hand be cut off.'
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (اسامہ بن زید سے) ارشاد فرمایا: "کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو؟" پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: "اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے"۔ متفق علیہ اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ مسلم میں ایک اور روایت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے کہ ایک عورت سامان مانگ کر لے جاتی اور پھر انکار کر دیتی، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
