العربية (الأصل)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{ لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ , وَلَا عِتْقِ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ , وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ } أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَاَلتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ, وَنُقِلَ عَنْ اَلْبُخَارِيِّ أَنَّهُ أَصَحُّ مَا وَرَدَ فِيهِ 1 .1 - صحيح. رواه أبو داود (2190 و 2191 و 2192)، والترمذي (1181)، وقال الأخير. " وفي الباب عن علي، ومعاذ بن جبل، وجابر، وابن عباس، وعائشة. قال أبو عيسى: حديث عبد الله بن عمرو حديث حسن صحيح. وهو أحسن شيء روي في هذا الباب ". قلت: وقول البخاري نقله البيهقي في "الخلافيات"، وانظر "التلخيص" (310). وفي "الأصل" بيان لكل هذه الشواهد وطرقها.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Amr bin Shu'aib on his father's authority from his grandfather that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "No descendant of Adam (upon him be peace) may make a vow concerning something he does not possess, or set free (a slave) that he does not possess, or divorce (a woman) whom he does not possess (in marriage)." .
الترجمة الأردية
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن آدم کی نذر اس چیز میں نہیں جس کا وہ مالک نہیں، اس کی آزادی اس میں نہیں جس کا وہ مالک نہیں اور اس کی طلاق اس میں نہیں جس کا وہ مالک نہیں۔ اسے ابو داؤد اور ترمذی نے روایت کیا اور ترمذی نے صحیح قرار دیا اور بخاری سے منقول ہے کہ یہ اس باب کی صحیح ترین روایت ہے۔
