العربية (الأصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{ أَيُّمَا اِمْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا, فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ, فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا اَلْمَهْرُ بِمَا اِسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا, فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ } أَخْرَجَهُ اَلْأَرْبَعَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ, وَصَحَّحَهُ أَبُو عَوَانَةَ , وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ 1 .1 - حسن . رواه أبو داود ( 2083 ) ، والترمذي ( 1102 ) ، وابن ماجه ( 1879 ) ، وابن حبان ( 1248) . وقال الترمذي : "هو عندي حسن" . قلت : وهو صحيح بشواهده. والله أعلم.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat ' Aishah (may Allah be well pleased with him) that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "If anyone married without the consent of her guardian, her marriage is invalid. If there is cohabitation, she is entitled to the dowry, due to the sexual intercourse made lawful with her. If there is a dispute (between her guardian), the ruler is the guardian of one who has no guardian." .
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر مرد نے اس سے ہمبستری کی تو اس عورت کو مہر ملے گا کیونکہ اس کی شرمگاہ حلال کی گئی۔ اگر جھگڑا ہو تو حاکم اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ اسے نسائی کے سوا اصحاب سنن نے روایت کیا اور ابو عوانہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا۔
