العربية (الأصل)
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ; { أَنَّ اَلنَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -اِسْتَعَارَ مِنْهُ دُرُوعاً يَوْمَ حُنَيْنٍ. فَقَالَ: أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ? قَالَ: بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ } رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ, وَالنَّسَائِيُّ, وَصَحَّحَهُ اَلْحَاكِمُ 1 .1 - صحيح. رواه أحمد ( 3 / 401 )، وأبو داود ( 3562 )، والنسائي في " الكبرى " ( 3 / 410 ) وهو صحيح بطرقه وشواهده.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Safwan bin Umaiya (may Allah be well pleased with him) that At the battle of Hunain, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) borrowed coats of mail from him and he asked, "Are you taking them by force, O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)?" He replied, "No, it is a loan with a guarantee of their reutrn." .
الترجمة الأردية
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن ان سے زرہیں عاریتاً لیں۔ انہوں نے کہا: اے محمد! کیا یہ غصب ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ضمانت کے ساتھ عاریت ہے۔ اسے ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا اور حاکم نے صحیح قرار دیا۔
