العربية (الأصل)
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ - رضى الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{ إِنَّ اَلْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ اَلْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اِجْتَاحَتْ مَالَهُ, فَحَلَّتْ لَهُ اَلْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ, فَحَلَّتْ لَهُ اَلْمَسْأَلَةُ } رَوَاهُ مُسْلِمٌ 1 .1 - صحيح. تقدم برقم 645.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Qabisa bin Mukhariq al-Hilali (may Allah be well pleased with him) that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Begging is not lawful except to one of three (people): a man who has become a guarantor for a payment, for whom begging is lawful till he gets it, after which he must stop begging; a man whose wealth has been destroyed by a calamity which has befallen him, for whom begging is lawful till he gets what will support life; and a man who has been struck by poverty, the genuineness of which is confirmed by three intelligent members of his people, so it is lawful for him to beg." .
الترجمة الأردية
حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوال (مانگنا) صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: ایک وہ شخص جس نے ضمانت اٹھائی ہو، اس کے لیے سوال اس وقت تک جائز ہے جب تک وہ پوری نہ کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ شخص جس پر کوئی آفت آئی ہو جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اس کے لیے سوال اس وقت تک جائز ہے جب تک وہ گزارے کے قابل نہ ہو جائے۔ تیسرا وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ کہیں کہ واقعی فلاں کو فاقہ ہے، تو اس کے لیے سوال جائز ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا۔
