الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) did not pray the Duha prayer except on two occasions: when he went to Makkah—because he used to arrive at Duha time, so he would perform tawaf of the Ka'bah and then pray two rak'ahs behind the Maqam Ibrahim—and when he visited Masjid Quba, which he would visit every week. When he entered the mosque, he disliked leaving without praying. He used to narrate that the Messenger of Allah (peace be upon him) would visit Masjid Quba both riding and on foot. He would say: "I only do what I saw my companions doing. I do not forbid anyone from praying at any hour of the day or night, except that one should not deliberately pray at sunrise or sunset."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانماز چاشت نہ پڑھتے تھے مگر جس دن کہ مکہ جاتے کیونکہ وہ مکہ میں چاشت ہی کے وقت جاتے تھے پس وہ کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور جس دن کہ مسجد قباء میں جاتے (اس دن بھی نماز چاشت پڑھتے) اور وہ ہر ہفتہ میں مسجد قباء جاتے پس جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تو اس بات کو برا جانتے تھے کہ بغیر نماز پڑھے اس سے باہر نکل آئیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے تھے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممسجد قباء کی زیارت کو سوار اور پیدل جایا کرتے تھے۔ (نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) کہا کرتے تھے کہ میں ویسا ہی کرتا ہوں جیسا کہ میں نے اپنے دوستوں کو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور میں کسی کو منع نہیں کرتا رات میں یا دن میں جس وقت چاہے نماز پڑھے سوائے اس کے کہ طلوع آفتاب (کے وقت نماز پڑھنے) کا قصد نہ کرے اور نہ غروب آفتاب (کے وقت نماز پڑھنے) کا۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 622]
