الترجمة الإنجليزية
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) was praying on a Friday, using something as a sutrah (barrier) in front of him. A young man from Banu Abi Mu'ayt tried to pass in front of him, so Abu Sa'id pushed him back on his chest. Finding no other way, the young man tried again, and Abu Sa'id pushed him back even harder. The young man became angry and went to Marwan to complain. Abu Sa'id said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'If any of you is praying and someone tries to pass in front of him, let him push him back. If he insists, let him fight him, for he is a devil.'"
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہجمعہ کے دن کسی چیز کے طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ رہے تھے جو ان کو لوگوں سے چھپاتی تھی۔ پس ایک جوان نے جو (قبیلہ) بنی ابی معیط سے تھا، یہ چاہا کہ ان کے آگے سے نکل جائے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ میں دھکا دیا، پس اس جوان نے کوئی سبیل نکلنے کی، سوائے ان کے آگے کے نہ دیکھی تو پھر اس نے چاہا کہ نکل جائے، پس ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے زیادہ سخت اسے دھکا دیا، اس پر اس نے ابوسعید رضی اللہ عنہ کی بےحرمتی کی۔ اس کے بعد وہ مروان کے پاس گیا اور ابوسعید رضی اللہ عنہ سے جو معاملہ ہوا تھا اس کی مروان سے شکایت کی اور اس کی پیچھے (پیچھے) ابوسعید رضی اللہ عنہ (بھی) مروان کے پاس گئے تو مروان نے کہا کہ اے ابوسعید! تمہارا اور تمہارے بھائی کے بیٹے کا کیا معاملہ ہے؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو جو اسے لوگوں سے چھپائے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے نکلنا چاہے تو چاہیے کہ اسے ہٹا دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لیے کہ وہ شیطان ہی ہے۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 320]
