الترجمة الإنجليزية
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) said: "The Prophet (peace be upon him) gave a sermon and said: 'Indeed, Allah has given a servant the choice between this world and what is with Allah, and the servant chose what is with Allah.' Abu Bakr as-Siddiq began weeping. I wondered: 'What makes this old man cry?' If Allah gave a servant a choice between this world and the Hereafter and he chose the Hereafter, why cry? But it turned out that the Messenger of Allah was that servant, and Abu Bakr understood this best among us."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہنبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے (ایک روز) خطبہ پڑھا تو فرمایا کہ بیشک اللہ سبحانہ نے ایک بندہ کو (دنیا کے اور) اس چیز کے درمیان، جو اللہ کے ہاں ہے، اختیار دیا (کہ چاہے جس کو پسند کر لے) تو اس نے اس چیز کو اختیار کر لیا جو اللہ کے ہاں ہے تو امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (یہ سن کر) رونے لگے، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اس بوڑھے کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ اگر اللہ نے کسی بندہ کو دنیا کے اور اس عالم کے درمیان جو اللہ کے ہاں ہے اختیار دیا اور اس نے اس عالم کو اختیار کر لیا جو اللہ کے ہاں ہے (تو اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ مگر آخر میں معلوم ہوا کہ) بندے سے مراد خود رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتھے اور (امیرالمؤمنین) ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) ہم سب میں زیادہ علم رکھتے تھے۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے ابوبکر! تم نہ روؤ بیشک سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے، اپنی صحبت اور اپنے مال میں، ابوبکر صدیق ہیں اور اگر میں اپنی امت میں سے (کسی کو) خلیل بناتا تو یقیناً ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت اور اس کی محبت (کافی ہے اور) مسجد میں ابوبکر کے دروازہ کے سوا سب کا دروازہ بند کر دیا جائے۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 294]
