الترجمة الإنجليزية
Narrated Aisha (may Allah be pleased with her): A woman of the Makhzum tribe committed theft. People wondered who would intercede with the Prophet (peace be upon him) on her behalf. No one dared, so Usamah bin Zaid (may Allah be pleased with him) spoke to the Prophet. He said: "Indeed, among the Children of Israel, when a noble person stole, they would let them go, but when a poor person stole, they would cut their hand. Even if Fatimah, my own daughter, were to steal, I would cut her hand."
الترجمة الأردية
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہبنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں کون نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سفارش کرے گا؟ (کہ اسے سزا نہ ہو) پس کسی کو آپصلی اللہ علیہ وسلمسے (یہ بات) عرض کرنے کی جرات نہ ہوئی تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بیشک بنی اسرائیل میں بھی جب کوئی شریف (بااثر) شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی غریب شخص چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے، اگر (اس کی جگہ چوری کرنے والی میری بیٹی) فاطمۃالزہراء بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1542]
