العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَقَالَ لَهُمْ " أَلاَ تُصَلُّونَ ". قَالَ عَلِيٌّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهْوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ " {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً}"
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Hadrat Ali bin Abi Talib that one night Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) visited him and Hadrat Fatima, the daughter of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said to them, "Won 't you offer (night) prayer?.. `Ali added: I said, "O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)! Our souls are in the Hand of Allah and when He Wishes to bring us to life, He does." Then Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) went away when I said so and he did not give any reply. Then I heard him on leaving while he was striking his thighs, saying, 'But man is, more quarrelsome than anything
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں خبر دی اور نہیں علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر رات میں تشریف لائے اور ان سے کہا کیا تم لوگ نماز تہجد نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں نے آپ کو واپس جاتے وقت یہ کہتے سنا۔ آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ فرما رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» کہ ”انسان بڑا ہی بحث کرنے والا ہے۔“
