العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ قِيلَ لأُسَامَةَ أَلاَ تُكَلِّمُ هَذَا. قَالَ قَدْ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا، أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحُهُ، وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَنْتَ خَيْرٌ. بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ، فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ أَىْ فُلاَنُ أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَيَقُولُ إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ أَفْعَلُهُ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ ".
الترجمة الإنجليزية
It was said to Hadrat Usama (bin Zaid, may Allah be well pleased with them both): 'Will you not speak to him (Hadrat Uthman, may Allah be well pleased with him) (about the people's complaints)?' He replied: 'I have spoken to him privately, without opening a door (of fitnah), for I would not be the first to open that door. And I am not one who tells a ruler — even one who is only over two men — that he is the best, after I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declare: A man will be brought on the Day of Resurrection and cast into the Fire. He will go round in it like a donkey grinding at a mill. The people of the Fire will gather around him and say: O so-and-so! Did you not used to command the good and forbid the evil? He will say: I used to command good but did not do it myself, and I used to forbid evil but did it myself.'
الترجمة الأردية
حضرت اسامہ (بن زید) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا گیا کہ آپ اِن (حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے بات کیوں نہیں کرتے (کہ لوگوں کی شکایات کا خیال رکھیں)؟ انہوں نے فرمایا: میں نے خلوت میں ان سے بات کی ہے لیکن (فتنے کا) دروازہ کھولے بغیر، کیونکہ ایسا کروں تو سب سے پہلے اس دروازے کو کھولنے والا میں ہوں۔ اور میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ جب کسی کو دو آدمیوں کا بھی امیر بنا دیا جائے تو اس سے کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے — جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور آگ میں ڈالا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی پیستا ہے۔ دوزخ والے اس کے گرد جمع ہوں گے اور کہیں گے: اے فلاں! کیا تو نیکی کا حکم اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: میں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا، اور برائی سے روکتا تھا لیکن خود کرتا تھا۔
