صحيح البخاريExpiation for Unfulfilled Oaths#6718صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ". ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا. فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ ".
الترجمة الإنجليزية
Qutaybah ibn Sa'id narrated to us, Hammad narrated to us, from Ghaylan ibn Jarir, from Abu Burdah ibn Abi Musa, from Hadrat Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be well pleased with him), who said: I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with a group of Ash'aris asking for mounts. He stated: "By Allah! I cannot give you mounts; I do not have anything to mount you on." Then we stayed as long as Allah willed. Then camels were brought to him and he ordered three riding camels for us. When we departed, some of us said to others: May Allah not bless us! We came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asking for mounts, and he swore not to give us mounts, yet he gave us mounts! Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) said: So we came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned this to him. He stated: "I did not give you mounts; rather, Allah gave you mounts. Indeed, by Allah, Allah willing, I never take an oath and then see something better than it, except that I expiate my oath and do that which is better, and offer the expiation."
الترجمة الأردية
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے، انہوں نے ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سواری مانگی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا، میرے پاس تمہارے لیے سواری نہیں ہے۔" پھر ہم جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: اللہ ہمیں برکت نہ دے! ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آئے، آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے مگر پھر ہمیں سواری دے دی۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات ذکر کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: "میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی۔ بے شک میں اللہ کی قسم! ان شاء اللہ جب بھی قسم کھاتا ہوں اور اس کے خلاف بہتر دیکھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرتا ہوں اور وہ کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور کفارہ دے دیتا ہوں۔"
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (12)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ". قَالَ ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ ن…
صحيح البخاري
كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهْوَ غَضْبَانُ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا ثُمَّ قَالَ …
صحيح مسلم
أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " . قَالَ فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُتِ…
صحيح مسلم
أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ " . ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ …
أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ " . ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِل…
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ". ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا. فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ ".
Qutaybah ibn Sa'id narrated to us, Hammad narrated to us, from Ghaylan ibn Jarir, from Abu Burdah ibn Abi Musa, from Hadrat Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be well pleased with him), who said: I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with a group of Ash'aris asking for mounts. He stated: "By Allah! I cannot give you mounts; I do not have anything to mount you on." Then we stayed as long as Allah willed. Then camels were brought to him and he ordered three riding camels for us. When we departed, some of us said to others: May Allah not bless us! We came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asking for mounts, and he swore not to give us mounts, yet he gave us mounts! Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) said: So we came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned this to him. He stated: "I did not give you mounts; rather, Allah gave you mounts. Indeed, by Allah, Allah willing, I never take an oath and then see something better than it, except that I expiate my oath and do that which is better, and offer the expiation."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے، انہوں نے ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سواری مانگی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا، میرے پاس تمہارے لیے سواری نہیں ہے۔" پھر ہم جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: اللہ ہمیں برکت نہ دے! ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آئے، آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے مگر پھر ہمیں سواری دے دی۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات ذکر کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: "میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی۔ بے شک میں اللہ کی قسم! ان شاء اللہ جب بھی قسم کھاتا ہوں اور اس کے خلاف بہتر دیکھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرتا ہوں اور وہ کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور کفارہ دے دیتا ہوں۔"
أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " .…