العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ قَالَتْ لاَ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَطِيعُ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated 'Alqama: I asked Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha (may Allah be well pleased with her), "O Mother of the Believers, how was the deeds of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)? Did he designate any particular day for worship?" She said, "No. His deeds were continuous, and who among you can bear what the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to bear?""
الترجمة الأردية
مجھ سے حضرت عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے علقمہ نے فرمایا: میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا: اے اُمّ المؤمنین! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا عمل کیسا تھا؟ کیا آپ (عبادت کے لیے) کوئی خاص دن مقرر فرماتے تھے؟ فرمایا: نہیں، آپ کا عمل مسلسل ہوتا تھا اور تم میں سے کون اتنا برداشت کر سکتا ہے جتنا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم برداشت فرماتے تھے۔
