العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْجُبْ نِسَاءَكَ. قَالَتْ فَلَمْ يَفْعَلْ، وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجْنَ لَيْلاً إِلَى لَيْلٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ، خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهْوَ فِي الْمَجْلِسِ فَقَالَ عَرَفْتُكِ يَا سَوْدَةُ. حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ. قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ الْحِجَابِ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): Hadrat ' Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) used to say to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), "Let your wives be veiled." But he did not do so. The wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to go out to answer the call of nature at night towards al-Manasi'. Once Umm al-Mu'minin Hadrat Sawda bint Zam'a (may Allah be well pleased with her) went out, and she was a tall woman. Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) saw her while he was sitting in the gathering and said, "I have recognized you, O Sawda!" He said this eagerly hoping that the verse of Al-Hijab would be revealed. So Allah the Mighty and Majestic revealed the Verse of Al-Hijab.
الترجمة الأردية
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہمیں یعقوب نے خبر دی، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھے عروہ بن حضرت زبیر نے خبر دی کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرتے تھے کہ اپنی ازواج مطہرات پر پردہ فرض کر دیجئے۔ فرمایا لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رات کو مناصع کی طرف قضائے حاجت کے لیے جاتی تھیں۔ ایک رات حضرت اُمّ المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نکلیں، وہ لمبے قد کی خاتون تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مجلس میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور پکار کر کہا کہ اے سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا۔ وہ اس طمع میں تھے کہ حجاب کی آیت نازل ہو جائے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے آیت حجاب نازل فرما دی۔
