العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ،. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهْوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ قَحَطَ الْمَطَرُ فَاسْتَسْقِ رَبَّكَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى مِنْ سَحَابٍ، فَاسْتَسْقَى فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ، فَمَا زَالَتْ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا. فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا. فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالاً، يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا، وَلاَ يُمْطِرُ مِنْهَا شَىْءٌ، يُرِيهِمُ اللَّهُ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas that a man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on a Friday while he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) was delivering a sermon at Medina, and said, "There is lack of rain, so please invoke your Lord to bless us with the rain." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) looked at the sky when no cloud could be detected. Then he invoked Allah for rain. Clouds started gathering together and it rained till the Medina valleys started flowing with water. It continued raining till the next Friday. Then that man (or some other man) stood up while the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was delivering the Friday sermon, and said, "We are drowned; Please invoke your Lord to withhold it (rain) from us" The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) smiled and said twice or thrice, "O Allah! Please let it rain round about us and not upon us." The clouds started dispersing over Medina to the right and to the left, and it rained round about Medina and not upon Medina. Allah showed them (the people) the miracle of His the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and His response to his invocation
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مدینہ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے عرض کیا بارش کا قحط پڑ گیا ہے، آپ اپنے رب سے بارش کی دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا کہیں ہمیں بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر آپ نے بارش کی دعا کی، اتنے میں بادل اٹھا اور بعض ٹکڑے بعض کی طرف بڑھے اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مدینہ کے نالے بہنے لگے۔ اگلے جمعہ تک اسی طرح بارش ہوتی رہی سلسلہ ٹوٹتا ہی نہ تھا چنانچہ وہی صاحب یا کوئی دوسرے ( اگلے جمعہ کو ) کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے عرض کیا: ہم ڈوب گئے، اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش بند کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا، چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹنے لگے، بائیں اور دائیں، ہمارے چاروں طرف دوسرے مقامات پر بارش ہونے لگی اور ہمارے یہاں بارش یکدم بند ہو گئی۔ یہ اللہ نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ اور اپنے پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی کرامت اور دعا کی قبولیت بتلائی۔
