العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ. وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَأَتَى النِّسَاءَ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that I offered the `Id prayer with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he offered prayer before the Khutba (sermon). ibn `Abbas added: After the prayer the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came towards (the rows of) the women and ordered them to give alms, and the women started putting their big and small rings in the garment of Hadrat Bilal
الترجمة الأردية
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے ( اور صدقہ کی ترغیب دلائی ) تو عورتیں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
