العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ". قَالُوا وَمَا الْفَأْلُ قَالَ " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Huraira that I heard Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) saying, "There is no Tiyara, and the best omen is the Fal." They asked, "What is the Fal?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen)
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا ”کوئی ایسی بات سننا۔“
