العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ الصَّلاَةَ، نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ فَقَالَ " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ". قَالَ وَلاَ يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Hadrat ' Aisha al-Siddiqah, Umm al-Mu'minin (may Allah be well pleased with her), who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) once delayed the 'Isha prayer until Hadrat 'Umar al-Faruq (may Allah be well pleased with him) called out: 'The prayer! The women and children have slept!' Then he came out and said: 'No one on the face of the earth is waiting for this prayer except you.' ('Urwah said:) In those days, the (congregational) prayer was not offered anywhere except Madinah. The Companions (may Allah be well pleased with them all) would pray 'Isha between the disappearance of the twilight (shafaq) and the end of the first third of the night.
الترجمة الأردية
ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے حضرت ابوبکر نے سلیمان سے بیان کیا۔ صالح بن کیسان نے کہا: مجھے ابن شہاب زہری نے عروہ سے خبر دی کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء میں تاخیر فرمائی یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکارا: نماز! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں! پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: "تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔" (عروہ نے کہا:) اس زمانے میں (باجماعت نماز) مدینہ کے سوا کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی۔ صحابہ کرام شفق (شام کی سرخی) غائب ہونے کے بعد سے رات کے پہلے تہائی حصے تک (کسی وقت بھی) عشاء ادا فرمایا کرتے تھے۔
