العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا فَعَلَهُ إِلاَّ فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ، أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلاَثًا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Hadrat Aisha that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) did not do that (i.e., forbade the storage of the meat of sacrifices for three days) except (he did so) so that the rich would feed the poor. But later we used to keep even trotters to cook, fifteen days later. The family of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) did not eat wheat bread with meat or soup to their satisfaction for three successive days
الترجمة الأردية
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت قربانی والا رکھنے سے منع فرمایا ہو۔ صرف اس سال یہ حکم دیا تھا جس سال قحط کی وجہ سے لوگ فاقے میں مبتلا تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ غنی ہیں وہ گوشت محتاجوں کو کھلائیں ( اور جمع کر کے نہ رکھیں ) اور ہم تو بکری کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور پندرہ دن بعد تک ( کھاتے تھے ) اور آل محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر سیر ہو کر نہیں کھائی۔
