العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ، قَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرَى صَاحِبَكَ إِلاَّ أَبْطَأَكَ. فَنَزَلَتْ {مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى}
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Jundub Al-Bajali that a lady said, "O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)! I see that your friend has delayed. (in conveying Qur'an) to you." So there was revealed: 'Your Lord (O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) has neither forsaken you, not hated you
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا کہ میں نے جندب بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ ایک عورت ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ کے دوست ( جبرائیل علیہ السلام ) آپ کے پاس آنے میں دیر کرتے ہیں۔ اس پر آیت نازل ہوئی «ما ودعك ربك وما قلى» یعنی ”آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے وہ بیزار ہوا ہے۔“
