العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " {إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا} انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ، مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ". وَذَكَرَ النِّسَاءَ فَقَالَ " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ". ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ وَقَالَ " لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ". وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ عَمِّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Abdullah bin Zama that he heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) delivering a sermon, and he mentioned the she-camel and the one who hamstrung it. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) recited:-- 'When, the most wicked man among them went forth (to hamstrung the she-camel).' (91.12.) Then he said, "A tough man whose equal was rare and who enjoyed the protection of his people, like Abi Zama went forth to (hamstrung) it." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then mentioned about the women (in his sermon). "It is not wise for anyone of you to lash his wife like a slave, for he might sleep with her the same evening." Then he advised them not to laugh when somebody breaks wind and said, "Why should anybody laugh at what he himself does?
الترجمة الأردية
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا «إذ انبعث أشقاها» یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت ( قدار نامی ) کو اپنی قوم میں ابوزمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا اٹھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا کہ تم میں بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہمبستری بھی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے انہیں ریاح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایک کام جو تم میں ہر شخص کرتا ہے اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو۔ حضرت ابومعاویہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ بن حضرت زبیر نے، ان سے عبداللہ بن زمعہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( اس حدیث میں ) یوں فرمایا ابوزمعہ کی طرح جو حضرت زبیر بن عوام کا چچا تھا۔
