العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا أَتْمَمْتُ كَلاَمِي حَتَّى قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that I intended to ask `Umar so I said, "Who were those two ladies who tried to back each other against the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)?" I hardly finished my speech when he said, They were `Hadrat Aisha and Hadrat Hafsa
الترجمة الأردية
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا میں نے عبید بن حنین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہا وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھیں۔
