العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا ـ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ ـ قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي. قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ. فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ} الآيَةَ. قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn Abi Mulaika that the two righteous persons were about to be ruined. They were Hadrat Abu Bakr and `Umar who raised their voices in the presence of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) when a mission from Bani Tamim came to him. One of the two recommended Al-Aqra' bin Habis, the brother of Bani Mujashi (to be their governor) while the other recommended somebody else. (Nafi`, the sub-narrator said, I do not remember his name). Hadrat Abu Bakr said to `Umar, "You wanted nothing but to oppose me!" `Umar said, "I did not intend to oppose you." Their voices grew loud in that argument, so Allah revealed: 'O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).' (49.2) Ibn Az-Zubair said, "Since the revelation of this Verse, `Umar used to speak in such a low tone that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had to ask him to repeat his statements." But Ibn Az-Zubair did not mention the same about his (maternal) grandfather (i.e. Hadrat Abu Bakr)
الترجمة الأردية
ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ قریب تھا کہ وہ سب سے بہتر افراد تباہ ہو جائیں یعنی حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر دی تھی۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی تمیم کے سوار آئے تھے ( اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا کوئی امیر بنا دیں ) ان میں سے ایک ( عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے مجاشع کے اقرع بن حابس کے انتخاب کے لیے کہا تھا اور دوسرے ( حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ایک دوسرے کا نام پیش کیا تھا۔ نافع نے کہا کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ کا ارادہ مجھ سے اختلاف کرنا ہی ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میرا ارادہ آپ سے اختلاف کرنا نہیں ہے۔ اس پر ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم» ”اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو“ الخ۔ عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اتنی آہستہ آہستہ بات کرتے کہ آپ صاف سن بھی نہ سکتے تھے اور دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔ انہوں نے اپنے نانا یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق اس سلسلے میں کوئی چیز بیان نہیں کی۔
