العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَهْىَ أُمُّ عَائِشَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ ". قَالَتْ نَعَمْ وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Um Ruman that Who was `Hadrat Aisha's mother: While I was with `Hadrat Aisha, `Hadrat Aisha got fever, whereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Hadrat Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob (upon him be peace) and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
الترجمة الأردية
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حضرت ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا، وہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
