العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي الْمُؤَذِّنِينَ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. قَالَ حُمَيْدٌ ثُمَّ أَرْدَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Humaid bin `Hadrat Abdur Rahman that Hadrat Abu Huraira said, "Hadrat Abu Bakr sent me in that Hajj in which he was the chief of the pilgrims along with the announcers whom he sent on the Day of Nahr to announce at Mina: "No pagan shall perform Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state." Humaid added: That the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent `Hadrat Ali bin Abi Talib (after Hadrat Abu Bakr) and ordered him to recite aloud in public Surat-Baraa. Hadrat Abu Huraira added, "So `Hadrat Ali, along with us, recited Hadrat Bara'a (loudly) before the people at Mina on the Day of Nahr and announced "No pagan shall perform Hajj after this year and none shall perform the Tawaf around the Ka`ba in a naked state
الترجمة الأردية
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھ کو ان اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا جنہیں آپ نے یوم نحر میں بھیجا تھا۔ منیٰ میں یہ اعلان کرنے کے لیے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔ حمید نے کہا کہ پھر پیچھے سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ سورۃ برات کا اعلان کر دیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ہمارے ساتھ منیٰ کے میدان میں دسویں تاریخ میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور یہ کہ کوئی مشرک آئندہ سال سے حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔
