العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ـ أُرَاهُ قَالَ ـ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ} قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالُوا {إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ}
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that 'Allah is Sufficient for us and He Is the Best Disposer of affairs," was said by Abraham (upon him be peace) when he was thrown into the fire; and it was said by Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) when they (i.e. hypocrites) said, "A great army is gathering against you, therefore, fear them," but it only increased their faith and they said: "Allah is Sufficient for us, and He is the Best Disposer (of affairs, for us)
الترجمة الأردية
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم سے حضرت ابوبکر شعبہ بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین حضرت عثمان بن عاصم نے اور ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہ کلمہ «حسبنا الله ونعم الوكيل» ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا، اس وقت جب ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور یہی کلمہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے کہا تھا کہ لوگوں ( یعنی قریش ) نے تمہارے خلاف بڑا سامان جنگ اکٹھا کر رکھا ہے، ان سے ڈرو لیکن اس بات نے ان مسلمانوں کا ( جوش ) ایمان اور بڑھا دیا اور یہ مسلمان بولے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔
