العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقْرَأُ {وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ }. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ، هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ لاَ يَسْتَطِيعَانِ أَنْ يَصُومَا، فَلْيُطْعِمَانِ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Ata that he heard Hadrat Ibn `Abbas reciting the Divine Verse:-- "And for those who can fast they had a choice to either fast, or feed a poor for every day.." (2.184) Hadrat Ibn `Abbas said, "This Verse is not abrogated, but it is meant for old men and old women who have no strength to fast, so they should feed one poor person for each day of fasting (instead of fasting)
الترجمة الأردية
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا وہ یوں قرآت کر رہے تھے «وعلى الذين يطوقونه فدية طَعام مسكين» ( تفعیل سے ) «فدية طَعام مسكين» ۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا بہت بوڑھی عورت ہے۔ جو روزے کی طاقت نہ رکھتی ہو، انہیں چاہئیے کہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔
