العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ، قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ. قَالَ عُمَرُ بَلْ أَمِّرِ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي. قَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ. فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُقَدِّمُوا} حَتَّى انْقَضَتْ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah bin Az-Zubair (may Allah be well pleased with them both) narrates that a group of riders belonging to Banu Tamim came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) submitted, 'Appoint Al-Qa'qa bin Ma'bad bin Zurara as their ruler.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) submitted, 'No! But appoint Al-Aqra bin Habis.' Thereupon Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) said, 'You just wanted to oppose me.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) replied, 'I did not want to oppose you.' So both of them argued so much that their voices became louder, and then the following Divine Verses were revealed in that connection: 'O you who believe! Do not be forward in the presence of Allah and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)...' till the end of the verse.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے چند سوار نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: قعقاع بن معبد بن زرارہ کو ان کا امیر مقرر فرما دیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: نہیں، بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنائیے۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم صرف میری مخالفت کرنا چاہتے ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میری نیت مخالفت کی نہیں تھی۔ دونوں بزرگوں میں اس قدر بحث ہوئی کہ آوازیں بلند ہو گئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله» (اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو)۔
