العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ نَجْدٍ، فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهْوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَاسْتَظَلَّ بِهَا وَعَلَّقَ سَيْفَهُ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ، وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْنَا، فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ " إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهْوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، مُخْتَرِطٌ صَلْتًا، قَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قُلْتُ اللَّهُ. فَشَامَهُ، ثُمَّ قَعَدَ، فَهْوَ هَذَا ". قَالَ وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) states, 'We participated in the expedition of Najd with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). When the time for the afternoon rest came and he was in a valley full of thorny trees, he dismounted and the people dispersed among the trees seeking shade. He rested under an acacia tree and hung his sword on it. We had barely closed our eyes when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called us. A bedouin was sitting near him. He declared: This man drew my sword while I was asleep. I opened my eyes and he was standing over me. He said: Who will save you from me? I declared: Allah. So he sat down.'
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ نجد کیا۔ جب قیلولے کا وقت ہوا اور آپ ایک وادی میں تھے جو کانٹے دار درختوں سے بھری ہوئی تھی تو آپ اترے اور لوگ درختوں کے سائے میں بکھر گئے۔ آپ ایک ببول کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس پر لٹکا دی۔ ہم نے تھوڑی سی آنکھ لگائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بلایا۔ آپ کے پاس ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا۔ ارشاد فرمایا: اس شخص نے میری تلوار نکالی جبکہ میں سو رہا تھا۔ میں نے آنکھ کھولی تو یہ میرے سر پر کھڑا تھا۔ اس نے کہا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے فرمایا: اللہ۔ تو وہ بیٹھ گیا۔
