العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ " لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ". فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي، لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrates that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared on the day of al-Ahzab (the Confederates), 'None of you should offer the Asr prayer except at Banu Qurayzah.' The time for Asr prayer overtook some of the Companions on the way. Some of them said, 'We shall not pray until we reach there,' while others said, 'Rather, we shall pray now; that was not his intention.' This was mentioned to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and he did not admonish any of them.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ میں۔ بعض صحابہ کرام کو راستے میں عصر کا وقت آ گیا تو بعض نے کہا: ہم نماز نہیں پڑھیں گے یہاں تک کہ وہاں پہنچ جائیں، اور بعض نے کہا: (نہیں) بلکہ ہم نماز پڑھ لیتے ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ نہیں تھی (کہ نماز قضا ہو جائے)۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی گئی تو آپ نے ان میں سے کسی کو بھی نہیں ڈانٹا۔
