العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ، جَعَلَ يَدُورُ فِي نِسَائِهِ وَيَقُولُ " أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا ". حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي سَكَنَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Hisham's father that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was in his fatal illness, he started visiting his wives and saying, "Where will I be tomorrow?" He was anxious to be in `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her)'s home. `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said, "So when it was my day, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) became silent (no longer asked the question)
الترجمة الأردية
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض الوفات میں بھی ازواج مطہرات کی باری کی پابندی فرماتے رہے البتہ یہ دریافت فرماتے رہے کہ کل مجھے کس کے یہاں ٹھہرنا ہے؟ کیونکہ آپ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کے خواہاں تھے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے یہاں قیام کا دن آیا تو آپ کو سکون ہوا۔
