العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلاَكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Wail that when `Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) sent `Ammar and Al-Hasan to (the people of) Kufa to urge them to fight, `Ammar addressed them saying, "I know that she (i.e. `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her)) is the wife of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in this world and in the Hereafter (world to come), but Allah has put you to test, whether you will follow Him (i.e. Allah) or her
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے حضرت ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عمار اور حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی اتباع کرتے ہو ( جو برحق خلیفہ ہیں ) یا حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی۔
