العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ. عَنْ حَدِيثِهِمَا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) that during one of the Ghazawat in which the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was fighting, none remained with the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) but Hadrat Talha and Sa`d
الترجمة الأردية
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حضرت عثمان یعنی ابن موہب نے بیان کیا، فرمایا: ایک مصری شخص آیا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حج کے بارے میں سوالات کیے۔ حضرت ابن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کے جوابات دیے۔ پھر اس شخص نے پوچھا: کیا حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ ہی ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے پوچھا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: وہ تمام مسلمانوں کے خلیفہ تھے اور ہم سب نے ان کی بیعت کی تھی۔
