العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيُنْفِدُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْهُمْ ـ فَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ـ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنَ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ. فَيَقُولُ ـ فَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ـ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ". تَابَعَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that one day meat was presented before the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and he stated, 'Verily Allah the Exalted shall gather on the Day of Resurrection the first and the last on a single plain, where the caller's voice shall reach all and the eye shall encompass all, and the sun shall draw near to them.' Then he mentioned the hadith of intercession: 'People shall come to Hadrat Ibrahim (upon him be peace) and submit: You are the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and Khalil of Allah on earth; intercede for us before your Lord. He shall say' — then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mentioned his instances of tawriya — 'Nafsi, nafsi! Go to Hadrat Musa (upon him be peace).' Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) also narrated this hadith from the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).
الترجمة الأردية
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ابوحیان نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا "بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک ہموار میدان میں جمع فرمائے گا جہاں پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب کو دیکھ سکے گی اور سورج ان کے بالکل قریب ہو گا۔" پھر آپ نے حدیثِ شفاعت بیان فرمائی: "لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: آپ روئے زمین پر اللہ کے نبی اور خلیل ہیں، ہمارے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں۔ وہ فرمائیں گے" — پھر آپ نے ان کے توریہ کا ذکر فرمایا — "نفسی نفسی! تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث کی متابعت کی۔
