It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that we were with the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at a banquet. A cooked foreleg was presented before him — it was his preferred portion. He took a morsel from it and stated, 'I shall be the chief of all people on the Day of Resurrection. Do you know how? Allah will gather the first and the last on a single plain where every onlooker can see them all and every caller's voice reaches them all, and the sun will draw near them. Some people will say: Do you not see what state you are in and what has befallen you? Why not seek someone who can intercede for you before your Lord? Some will say: Go to your forefather Hadrat Adam (upon him be peace). They will come to him and submit: O Hadrat Adam (upon him be peace)! You are the father of mankind. Allah created you with His Hand of Power, breathed His spirit into you, commanded the angels and they prostrated to you, and settled you in Paradise. Will you not intercede for us before your Lord? Do you not see what state we are in? He will reply: My Lord is angry today as He has never been before and will never be again. He forbade me from the tree, but I fell short. Nafsi, nafsi! Go to someone else; go to Hadrat Nuh (upon him be peace). They will come to Hadrat Nuh (upon him be peace) and submit: O Nuh! You are the first messenger to the people of the earth, and Allah named you a grateful servant. Do you not see our condition? Will you not intercede for us before your Lord? He will reply: My Lord is angry today as He has never been before and will never be again. Nafsi, nafsi! Go to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). They will come to me, and I shall prostrate beneath the Throne. Then it shall be said: O Muhammad! Raise your head and intercede, for your intercession shall be accepted; ask, and you shall be given.' Muhammad bin Ubaid said he could not remember the rest of the narration.
الترجمة الأردية
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحیان نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا۔ آپ نے اس میں سے ایک لقمہ نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا "قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائے گا جہاں دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے گا اور پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ بعض لوگ کہیں گے: دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کرے۔ بعض لوگ کہیں گے: اپنے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، اپنی روح آپ میں پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں رکھا۔ آپ ہمارے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیں، آپ دیکھ رہے ہیں ہم کس حال میں ہیں۔ وہ فرمائیں گے: میرا رب آج اتنا غضبناک ہے جتنا نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا، اور اس نے مجھے درخت سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے کوتاہی کی۔ نفسی نفسی! تم کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! آپ روئے زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام عبدِ شکور رکھا ہے، آپ دیکھ رہے ہیں ہم کس حال میں ہیں، آپ ہمارے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیں۔ وہ فرمائیں گے: میرا رب آج اتنا غضبناک ہے جتنا نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔ نفسی نفسی! تم نبی (آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر ارشاد ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔" محمد بن عبید نے کہا کہ باقی حدیث مجھے یاد نہ رہی۔
وعنه قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في دعوة، فرفع إليه الذراع، وكانت تعجبه، فنهس منها نهسة وقال: أنا سيد الناس يوم القيامة، هل تدرون مم ذاك؟ يجمع الله الأولين والآ…
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that we were with the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at a banquet. A cooked foreleg was presented before him — it was his preferred portion. He took a morsel from it and stated, 'I shall be the chief of all people on the Day of Resurrection. Do you know how? Allah will gather the first and the last on a single plain where every onlooker can see them all and every caller's voice reaches them all, and the sun will draw near them. Some people will say: Do you not see what state you are in and what has befallen you? Why not seek someone who can intercede for you before your Lord? Some will say: Go to your forefather Hadrat Adam (upon him be peace). They will come to him and submit: O Hadrat Adam (upon him be peace)! You are the father of mankind. Allah created you with His Hand of Power, breathed His spirit into you, commanded the angels and they prostrated to you, and settled you in Paradise. Will you not intercede for us before your Lord? Do you not see what state we are in? He will reply: My Lord is angry today as He has never been before and will never be again. He forbade me from the tree, but I fell short. Nafsi, nafsi! Go to someone else; go to Hadrat Nuh (upon him be peace). They will come to Hadrat Nuh (upon him be peace) and submit: O Nuh! You are the first messenger to the people of the earth, and Allah named you a grateful servant. Do you not see our condition? Will you not intercede for us before your Lord? He will reply: My Lord is angry today as He has never been before and will never be again. Nafsi, nafsi! Go to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). They will come to me, and I shall prostrate beneath the Throne. Then it shall be said: O Muhammad! Raise your head and intercede, for your intercession shall be accepted; ask, and you shall be given.' Muhammad bin Ubaid said he could not remember the rest of the narration.
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحیان نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا۔ آپ نے اس میں سے ایک لقمہ نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا "قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائے گا جہاں دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے گا اور پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ بعض لوگ کہیں گے: دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کرے۔ بعض لوگ کہیں گے: اپنے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، اپنی روح آپ میں پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں رکھا۔ آپ ہمارے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیں، آپ دیکھ رہے ہیں ہم کس حال میں ہیں۔ وہ فرمائیں گے: میرا رب آج اتنا غضبناک ہے جتنا نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا، اور اس نے مجھے درخت سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے کوتاہی کی۔ نفسی نفسی! تم کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! آپ روئے زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام عبدِ شکور رکھا ہے، آپ دیکھ رہے ہیں ہم کس حال میں ہیں، آپ ہمارے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیں۔ وہ فرمائیں گے: میرا رب آج اتنا غضبناک ہے جتنا نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا۔ نفسی نفسی! تم نبی (آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر ارشاد ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔" محمد بن عبید نے کہا کہ باقی حدیث مجھے یاد نہ رہی۔