العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَأَخَذَتْ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ـ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ ". فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَىٍّ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلاً ضَخْمًا، فَلَمَّا جَرُّوهُ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ قَبْلَ أَنْ يُلْقَى فِي الْبِئْرِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat ' Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) that while the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was in prostration, surrounded by some of the Quraish polytheists, 'Uqba bin Abi Mu'ait brought the intestines of a camel and threw them on the blessed back of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He did not raise his head until Hadrat Fatima (may Allah be well pleased with her) came and removed them from his back, and she rebuked those who had done it. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then supplicated: O Allah! Seize the chiefs of the Quraish! O Allah! Destroy Abu Jahl bin Hisham, 'Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a, 'Uqba bin Abi Mu'ait, and Umayya bin Khalaf — or Hadrat Ubayy bin Khalaf! (Hadrat ' Abdullah (may Allah be well pleased with him) stated:) I saw all of them slain on the day of Badr and cast into a well, except Umayya or Hadrat Ubayy, for he was a very corpulent man. When they dragged him, his limbs separated before he could be thrown into the well.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور آپ کے ارد گرد مشرکینِ قریش کے کچھ لوگ بیٹھے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لے کر آیا اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پشتِ مبارک پر ڈال دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں اور آپ کی پشت سے وہ اتاری اور جس نے ایسا کیا تھا اسے برا بھلا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا فرمائی: اے اللہ! قریش کے ان سرداروں کو پکڑ! اے اللہ! حضرت ابوجہل بن ہشام کو، عتبہ بن ربیعہ کو، شیبہ بن ربیعہ کو، عقبہ بن ابی معیط کو اور امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو تباہ کر! (حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:) میں نے دیکھا کہ یہ سب بدر کے دن قتل کیے گئے اور ایک کنویں میں ڈالے گئے، سوائے امیہ یا ابی کے، کیونکہ وہ بہت بھاری شخص تھا، جب اسے کھینچا گیا تو کنویں میں ڈالنے سے پہلے ہی اس کے جوڑ بکھر گئے۔
