'Abdullah ibn 'Abd al-Wahhab narrated to us, Hammad narrated to us, Ayyub narrated to us, from Abu Qilabah, who said: al-Qasim ibn 'Asim al-Kulaybi narrated to me — and I remember al-Qasim's narration better — from Zahdam, who said: We were with Hadrat Abu Musa (al-Ash'ari) (may Allah be well pleased with him). Food was brought to him which contained chicken, and there was a reddish-complexioned man from the Banu Taym Allah sitting with him, who looked as though he were from the freed slaves. He invited him to eat, but the man said: 'I saw it (the chicken) eating something repulsive, so I found it disgusting and swore not to eat it.' Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) said: 'Come, let me tell you about that. I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with a group of the Ash'aris to request riding animals. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "By Allah, I shall not provide you with mounts, and I have nothing to give you for riding." Then some camels from the spoils of war were brought to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he asked about us, saying: "Where is the Ash'ari group?" He then ordered five white-humped camels for us. When we set off, we said: What have we done? We will not be blessed — for he had sworn not to give us mounts. We went back and submitted: We asked you to provide us mounts, and you swore you would not. Have you forgotten? He stated: "It was not I who provided you with mounts; rather Allah provided you with mounts. And by Allah, if Allah wills, whenever I take an oath and then see something better than it, I do what is better and expiate for my oath."'
الترجمة الأردية
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ابو قلابہ سے، انہوں نے کہا: مجھ سے قاسم بن عاصم الکلیبی نے بیان کیا — اور میں قاسم کی حدیث زیادہ یاد رکھتا ہوں — زہدم سے، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے۔ ان کے سامنے (کھانا) لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا اور ان کے پاس بنو تیم اللہ کا ایک سرخ رنگت والا آدمی بیٹھا تھا جو غلاموں جیسا لگتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا: میں نے اسے (مرغی کو) کوئی ناگوار چیز کھاتے دیکھا تھا جس سے مجھے نفرت ہوئی، تو میں نے قسم کھائی کہ نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سواری مانگنے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا، اور میرے پاس سواری کا سامان نہیں ہے جو تمہیں دوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمارے بارے میں دریافت فرمایا اور ارشاد فرمایا: اشعری جماعت کہاں ہے؟ پھر ہمارے لیے پانچ سفید کوہانوں والے اونٹوں کا حکم فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا: ہم نے کیا کیا! ہم پر برکت نہیں ہو گی (کیونکہ آپ نے قسم کھائی تھی)۔ ہم واپس آئے اور عرض کیا: ہم نے آپ سے سواری مانگی تھی تو آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے، کیا آپ بھول گئے؟ ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی ہے۔ اور بے شک اللہ کی قسم! ان شاء اللہ میں جب بھی کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے خلاف بہتر دیکھتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔
'Abdullah ibn 'Abd al-Wahhab narrated to us, Hammad narrated to us, Ayyub narrated to us, from Abu Qilabah, who said: al-Qasim ibn 'Asim al-Kulaybi narrated to me — and I remember al-Qasim's narration better — from Zahdam, who said: We were with Hadrat Abu Musa (al-Ash'ari) (may Allah be well pleased with him). Food was brought to him which contained chicken, and there was a reddish-complexioned man from the Banu Taym Allah sitting with him, who looked as though he were from the freed slaves. He invited him to eat, but the man said: 'I saw it (the chicken) eating something repulsive, so I found it disgusting and swore not to eat it.' Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) said: 'Come, let me tell you about that. I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with a group of the Ash'aris to request riding animals. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "By Allah, I shall not provide you with mounts, and I have nothing to give you for riding." Then some camels from the spoils of war were brought to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he asked about us, saying: "Where is the Ash'ari group?" He then ordered five white-humped camels for us. When we set off, we said: What have we done? We will not be blessed — for he had sworn not to give us mounts. We went back and submitted: We asked you to provide us mounts, and you swore you would not. Have you forgotten? He stated: "It was not I who provided you with mounts; rather Allah provided you with mounts. And by Allah, if Allah wills, whenever I take an oath and then see something better than it, I do what is better and expiate for my oath."'
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ابو قلابہ سے، انہوں نے کہا: مجھ سے قاسم بن عاصم الکلیبی نے بیان کیا — اور میں قاسم کی حدیث زیادہ یاد رکھتا ہوں — زہدم سے، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے۔ ان کے سامنے (کھانا) لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا اور ان کے پاس بنو تیم اللہ کا ایک سرخ رنگت والا آدمی بیٹھا تھا جو غلاموں جیسا لگتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا: میں نے اسے (مرغی کو) کوئی ناگوار چیز کھاتے دیکھا تھا جس سے مجھے نفرت ہوئی، تو میں نے قسم کھائی کہ نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سواری مانگنے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا، اور میرے پاس سواری کا سامان نہیں ہے جو تمہیں دوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمارے بارے میں دریافت فرمایا اور ارشاد فرمایا: اشعری جماعت کہاں ہے؟ پھر ہمارے لیے پانچ سفید کوہانوں والے اونٹوں کا حکم فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا: ہم نے کیا کیا! ہم پر برکت نہیں ہو گی (کیونکہ آپ نے قسم کھائی تھی)۔ ہم واپس آئے اور عرض کیا: ہم نے آپ سے سواری مانگی تھی تو آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے، کیا آپ بھول گئے؟ ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی ہے۔ اور بے شک اللہ کی قسم! ان شاء اللہ میں جب بھی کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے خلاف بہتر دیکھتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔