صحيح البخاريOne-fifth of Booty to the Cause of Allah (Khumus)#3091صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِيَ فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ، وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَاىَ قَدِ اجْتُبَّ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَالُوا فَعَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهْوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ. فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِي الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ " فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهَ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ. فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُمْ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجْنَا مَعَهُ.
الترجمة الإنجليزية
'Abdan narrated to us, Hadrat 'Abdullah informed us, Yunus informed us, from al-Zuhri, who said: Hadrat 'Ali ibn al-Husayn informed me that Hadrat Husayn ibn Hadrat 'Ali (upon them both be peace) informed him that Hadrat ' Ali (may Allah ennoble his countenance) said: I had an old she-camel from my share of the war booty of the Battle of Badr, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had also given me an old she-camel from the one-fifth share. When I intended to consummate the marriage with Sayyidah Hadrat Fatimah al-Zahra (may Allah be well pleased with her), daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I made an arrangement with a goldsmith from the Banu Qaynuqa' that he would accompany me so we could bring back idhkhir grass, which I intended to sell to the goldsmiths and use the proceeds for my wedding feast. While I was gathering supplies — pack-saddles, sacks, and ropes — for my two she-camels, which were kneeling beside the room of a man from the Ansar, I returned after collecting everything, only to find that the humps of both she-camels had been cut off, their flanks ripped open, and their livers taken out. I could not hold back my tears when I saw that sight. I asked: 'Who did this?' They said: Hadrat 'Hamzah ibn 'Abd al-Muttalib (may Allah be well pleased with him) did it, and he is in this house with a group of the Ansar.' So I went and entered upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and Hadrat Zayd ibn Harithah (may Allah be well pleased with him) was with him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) recognized from my face what had happened, and he stated: 'What is the matter with you?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have never seen anything like what happened today! Hadrat Hamzah attacked my two she-camels, cut off their humps and ripped open their flanks, and he is in a house with a group of people.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) called for his cloak, put it on, and walked out. I and Hadrat Zayd ibn Harithah (may Allah be well pleased with him) followed him until he reached the house where Hadrat Hamzah (may Allah be well pleased with him) was. He sought permission and they permitted him entry. They were drinking. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) began to reproach Hadrat Hamzah (may Allah be well pleased with him) for what he had done, but Hadrat Hamzah was intoxicated with his eyes reddened. Hadrat Hamzah looked at the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), then raised his gaze to his knees, then raised his gaze to his navel, then raised his gaze to his blessed face, and then said: 'Are you all not but slaves of my father?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) realized that he was intoxicated, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stepped back and retreated, and we went out with him.
الترجمة الأردية
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہمیں یونس نے خبر دی، زہری سے، انہوں نے کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی کہ حضرت حسین بن علی علیہما السلام نے انہیں خبر دی کہ حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: میرے پاس غزوۂ بدر کے مالِ غنیمت سے میرے حصے کی ایک بوڑھی اونٹنی تھی، اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے خمس میں سے ایک بوڑھی اونٹنی عنایت فرمائی تھی۔ جب میں نے سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے رخصتی کا ارادہ کیا تو بنو قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے تاکہ ہم اذخر گھاس لائیں، میں اسے سناروں کو بیچنا چاہتا تھا تاکہ اپنے ولیمے میں اس سے مدد لوں۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کے لیے پالان، بوریاں اور رسیاں جمع کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے پاس بٹھائی ہوئی تھیں۔ جب میں سامان جمع کر کے واپس آیا تو دیکھا کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دیے گئے ہیں، پیٹ چاک کر دیے گئے ہیں اور ان کے کلیجے نکال لیے گئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا: یہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا ہے، اور وہ اس گھر میں انصار کی محفل میں ہیں۔ میں چلا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے سے میری تکلیف پہچان لی اور ارشاد فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج جیسا واقعہ میں نے کبھی نہیں دیکھا، حضرت حمزہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر حملہ کیا، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ چاک کر دیے، اور وہ ایک گھر میں ہیں جہاں لوگ بیٹھے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک منگوائی اور اوڑھ کر تشریف لے گئے۔ میں اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ اس گھر میں پہنچے جہاں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ آپ نے اجازت مانگی اور انہوں نے اجازت دے دی۔ وہ لوگ پی رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے اس فعل پر ملامت فرمانا شروع کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نشے میں تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں کی طرف دیکھا، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ کے ناف کی طرف دیکھا، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھا، پھر حضرت حمزہ نے کہا: تم سب تو میرے باپ کے غلام ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پہچان لیا کہ وہ نشے میں ہیں، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹ کر واپس تشریف لے آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ باہر آ گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِيَ فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ، وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَاىَ قَدِ اجْتُبَّ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَالُوا فَعَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهْوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ. فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِي الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ " فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهَ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ. فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُمْ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجْنَا مَعَهُ.
'Abdan narrated to us, Hadrat 'Abdullah informed us, Yunus informed us, from al-Zuhri, who said: Hadrat 'Ali ibn al-Husayn informed me that Hadrat Husayn ibn Hadrat 'Ali (upon them both be peace) informed him that Hadrat ' Ali (may Allah ennoble his countenance) said: I had an old she-camel from my share of the war booty of the Battle of Badr, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had also given me an old she-camel from the one-fifth share. When I intended to consummate the marriage with Sayyidah Hadrat Fatimah al-Zahra (may Allah be well pleased with her), daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I made an arrangement with a goldsmith from the Banu Qaynuqa' that he would accompany me so we could bring back idhkhir grass, which I intended to sell to the goldsmiths and use the proceeds for my wedding feast. While I was gathering supplies — pack-saddles, sacks, and ropes — for my two she-camels, which were kneeling beside the room of a man from the Ansar, I returned after collecting everything, only to find that the humps of both she-camels had been cut off, their flanks ripped open, and their livers taken out. I could not hold back my tears when I saw that sight. I asked: 'Who did this?' They said: Hadrat 'Hamzah ibn 'Abd al-Muttalib (may Allah be well pleased with him) did it, and he is in this house with a group of the Ansar.' So I went and entered upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and Hadrat Zayd ibn Harithah (may Allah be well pleased with him) was with him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) recognized from my face what had happened, and he stated: 'What is the matter with you?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have never seen anything like what happened today! Hadrat Hamzah attacked my two she-camels, cut off their humps and ripped open their flanks, and he is in a house with a group of people.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) called for his cloak, put it on, and walked out. I and Hadrat Zayd ibn Harithah (may Allah be well pleased with him) followed him until he reached the house where Hadrat Hamzah (may Allah be well pleased with him) was. He sought permission and they permitted him entry. They were drinking. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) began to reproach Hadrat Hamzah (may Allah be well pleased with him) for what he had done, but Hadrat Hamzah was intoxicated with his eyes reddened. Hadrat Hamzah looked at the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), then raised his gaze to his knees, then raised his gaze to his navel, then raised his gaze to his blessed face, and then said: 'Are you all not but slaves of my father?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) realized that he was intoxicated, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stepped back and retreated, and we went out with him.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہمیں یونس نے خبر دی، زہری سے، انہوں نے کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی کہ حضرت حسین بن علی علیہما السلام نے انہیں خبر دی کہ حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: میرے پاس غزوۂ بدر کے مالِ غنیمت سے میرے حصے کی ایک بوڑھی اونٹنی تھی، اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے خمس میں سے ایک بوڑھی اونٹنی عنایت فرمائی تھی۔ جب میں نے سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے رخصتی کا ارادہ کیا تو بنو قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے تاکہ ہم اذخر گھاس لائیں، میں اسے سناروں کو بیچنا چاہتا تھا تاکہ اپنے ولیمے میں اس سے مدد لوں۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کے لیے پالان، بوریاں اور رسیاں جمع کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے پاس بٹھائی ہوئی تھیں۔ جب میں سامان جمع کر کے واپس آیا تو دیکھا کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دیے گئے ہیں، پیٹ چاک کر دیے گئے ہیں اور ان کے کلیجے نکال لیے گئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا: یہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا ہے، اور وہ اس گھر میں انصار کی محفل میں ہیں۔ میں چلا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے سے میری تکلیف پہچان لی اور ارشاد فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج جیسا واقعہ میں نے کبھی نہیں دیکھا، حضرت حمزہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر حملہ کیا، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ چاک کر دیے، اور وہ ایک گھر میں ہیں جہاں لوگ بیٹھے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک منگوائی اور اوڑھ کر تشریف لے گئے۔ میں اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ اس گھر میں پہنچے جہاں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ آپ نے اجازت مانگی اور انہوں نے اجازت دے دی۔ وہ لوگ پی رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے اس فعل پر ملامت فرمانا شروع کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نشے میں تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں کی طرف دیکھا، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ کے ناف کی طرف دیکھا، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھا، پھر حضرت حمزہ نے کہا: تم سب تو میرے باپ کے غلام ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پہچان لیا کہ وہ نشے میں ہیں، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹ کر واپس تشریف لے آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ باہر آ گئے۔