العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَقْفَلَهُ مِنْ عُسْفَانَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَقَدْ أَرْدَفَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، فَعَثَرَتْ نَاقَتُهُ فَصُرِعَا جَمِيعًا، فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ " عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ ". فَقَلَبَ ثَوْبًا عَلَى وَجْهِهِ وَأَتَاهَا، فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا وَأَصْلَحَ لَهُمَا مَرْكَبَهُمَا فَرَكِبَا، وَاكْتَنَفْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ". فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) who states: We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on the return from 'Usfan. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was on his she-camel with Umm al-Mu'minin Hadrat Safiyya bint Huyayy (may Allah be well pleased with her) seated behind him. The camel stumbled and they both fell. Hadrat Abu Hadrat Talha (may Allah be well pleased with him) quickly jumped down and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! May Allah make me your ransom! He declared: "Attend to the woman first." He put his cloth over his face, went to her, and placed the cloth over her. He fixed the mount for them both and they remounted. We surrounded the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). When we saw the heights of Madinah, he declared: "We are those returning, repenting, worshipping, praising our Lord." He continued saying this until he entered Madinah.
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عسفان سے واپسی میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر تھے، حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ بنت حیی (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ اونٹنی ٹھوکر کھائی تو دونوں گر گئے۔ حضرت ابوطلحہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جلدی سے کودے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! آپ نے ارشاد فرمایا: "پہلے عورت کی خبر لو۔" انہوں نے اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈالا اور ان کی طرف گئے، کپڑا ان پر ڈالا اور ان دونوں کے لیے سواری ٹھیک کی تو دونوں سوار ہوئے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر لیا۔ جب ہم نے مدینے کی بلندی دیکھی تو آپ نے ارشاد فرمایا: "ہم واپس آنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔" آپ برابر یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینے میں داخل ہوئے۔
